مصروف...
جمعہ, اگست 14, 2015

چارج کنٹرولرز






سولر پینل سے آگے لگا ہوا الیکٹرونک سسٹم خاص کر چارج کنٹرولر بھی آپ کے سولر کی آوٹ پُٹ پر اہم اثر رکھتا ہے۔ ایک عام چارج کنٹرولر آپ کے پینل کی ۲۵ فیصد تک آوٹ پُٹ ضائع کر دیتا ہے۔ اس کے برعکس خاص طور پر ڈیزائن کردہ چارج کنٹرولرز مثلا MPPTچارج کنٹرولرز اس نقصان کو کم کرے کے ۵ فیصد تک لاتا ہے۔ یعنی آپ کا ۱۵۰ واٹ کا پینل عام چارج کنٹرولر کے ساتھ ، عموما ۱۲۵ واٹ تک کی آوٹ پُٹ فراہم کر رہا ہوتا ہے۔ اس کے برعکس MPPTچارج کنٹرولرز سے آپ کے پینل کی آوٹ پُٹ ۱۴۰ واٹ سے اوپر ہی رہتی ہے۔

MPPTچارج کنٹرولرز مخفف ہیں Maximum power point tracking چارج کنٹرولرز
 چارج کنٹرولرز کیا ہوتے ہیں؟
چارج کنٹرولر کسی بھی مناسب یا بڑے سائز کے سولر سسٹم کا سب سے اہم جزو ہے۔ ایک چارج کنٹرولر یا چارج ریگولیٹر آپ کی کار میں پائے جانے والے وولٹیج ریگولیٹر جیسا ہی ہوتا ہے۔ چارج کنٹرولر کا کام سولر پینلز سے بیٹری تک آنے والے کرنٹ کو مناسب حد تک لانا ہوتا ہے یعنی ریگولیٹ کرنا ہوتا ہے۔ ایسا اس لیے ضروری ہوتا ہے کہ زیادہ تر پینلز ۱۶ سے ۲۰ ووٹ تک فراہم کر رہے ہوتے ہیں، جبکہ بیٹریز کو محض ۱۴ سے ساڑھے چودہ وولٹ درکار ہوتے ہیں۔ چناچہ اگر اس کرنٹ کو ریگولیٹ نہ کیا جائے تو بیٹریاں اوور چارجنگ کی وجہ سے تباہ ہو جائیں۔

کیا مجھے ہمیشہ چارج کنٹرولر کی ضرورت ہو گی؟
نہیں، ہمیشہ نہیں، لیکن بیشتر اوقات۔ عموماََ اگر آپ کا پینل بہت چھوٹے سائز کا ہے یعنی محض ایک تا ۵ واٹ فراہم کر رہا ہے تو آپ کو کسی چارج کنٹرولر کی ضرورت نہیں۔ اصولی طور پر اگر ہر ۵۰ ایمپئر کی بیٹری کے لیے آپ کا سولر سسٹم ۲ واٹ یا اس سے کم کرنٹ فراہم کر رہا ہے تو آپ کو چارج کنٹرولر کی ضرورت نہیں ہے۔
تاہم اگر مندرجہ بالا صورت حال نہیں ہے تو پھر آپ کا چارج کنٹرولر آپ کی بیٹری کو ، اس کی ضرورت کے مطابق ۱۰ تا ساڑھے چودہ وولٹ فراہم کرتا ہے۔

کیا میں اپنے سولر سسٹم میں عام چارج کنٹرولر استعمال کر سکتا ہوں؟
جی ہاں۔ کرنے کر تو کیا جا سکتا ہے۔ لیکن اس طرح آپ اپنے سسٹم کی زیادہ تر پاور یعنی ۲۰ تا ۶۰ فیصد پاور کو ضائع کر دیں گے۔ آئیے دیکھتے ہیں کس طرح۔
ہم فرض کرتے ہیں کہ ہمارے پاس ۱۷۵ واٹ کا ایک پینل ہے جس کی ریٹنگ ۲۳ وولٹ اور ۷ اعشاریہ ۶ ایمپئر ہے۔
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ بیٹری کو چارجنگ کے لیے ۱۰ تا ساڑھے چودہ وولٹ درکار ہوتے ہیں۔چناچہ عام چارج کنٹرولر آپ کے پینل کے ۲۳ وولٹ کو ریگولیٹ کر کے ۱۲ یا ۱۳ وولٹ تک تو لے آئے گا، لیکن یہ ایمپئر نہیں بڑھا پائے گا اور وہ ۷ اعشاریہ ۶ ایمپئر ہی رہیں گے۔ چناچہ اوہمز کے قانون کے مطابق آپ کا پینل ۱۷۵ واٹ کا ہونے کے باوجود محض ۹۰ واٹ تک کی پاور فراہم کر رہا ہو گا۔ اگر بیٹری کو درکار ووٹ ۱۰ ہوں گے تب تو یہ صورت حال زیادہ خراب تر ہو جائے گی اور آپ کا ۱۷۵ واٹ کا پینل محض ۷۵ واٹ کا رہ جائے گا۔ جبکہ آپ نے ادائیگی ۱۷۵ واٹ کے پینل کی ہوئی ہے۔اسی طرح سیریز میں لگے ہوئے انہی دو پینلز کی آوٹ پُٹ ۳۵۰ واٹ کے بجائے محض ۱۰۰ واٹ تک ہو گی۔ کیوں کہ یہ چارج کنٹرولرز ایمپئرز کو جمع نہیں کر پاتے۔ چناچہ عام چارج کنٹرولر خریدنے میں تو سستا ہے ، لیکن وہ درحقیقت آپ کی سولر سسٹم کی پاور کو ضائع کرتا رہتا ہے۔ تصور کیجیے کہ آپ نے لاکھوں روپے خرچ کر کے ایک ہزار واٹ کا سولر سسٹم لگوایا ہے، لیکن محض چند ہزار کی بچت کی خاطر وہ محض ۵۰۰ واٹ کا رہ گیا ہے۔
چارج کنٹرولرز کی اقسام :

چارج کنٹرولرز عموما تین قسم کے ہوتے ہیں 

۱: سادہ ایک یا دو سٹیج کنٹرولرز۔ یہ کنٹرولرز ریلیز اور شنٹ ٹرانزسٹرز پر انحصار کرتے ہوئے وولٹیج کو ایک یا دو سٹیپس میں کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کا کام محض اتنا ہوتا ہے کہ جب بیٹریاں مکمل طور پر چارج ہو جائیں تو یہ سولر سسٹم کو چارجنگ سے علیحدہ کر دیں۔
۲: تین سٹیج اور PWM: یہ الیکٹرونکلی سادہ کنٹرولرز سے زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔سادہ الفاظ میں ان کی وضاحت یوں کی جا سکتی ہے کہ یہ بیٹری کی چارجنگ کی صورت حال کے مطابق اس کے چارجنگ ریٹ کو ایڈجسٹ کرتے ہیں۔ یعنی خالی بیٹری کو زیادہ تیزی سے چارج کرنا اور پھر چارجنگ کو آہستہ کرتے جانا۔
ٹیکنکلی یہ کنٹرولرز بیٹری کی کنڈیشن کو مانیٹر کرتے ہیں۔ پھر اس کے مطابق اپنے سگنلز یا پلزز یا چارجنگ پلزز بھیجتے ہیں۔ اگر بیٹری بہت زیادہ ڈاون ہے تو یہ طویل اور جلدی جلدی چارجنگ پلزز بھیجتے ہیں۔ ہر پلز کے بعد یہ بیٹری کو مانیٹر کرتے ہیں اور اس کے مطابق اپنی پلز کو ایڈجسٹ کرتے ہیں۔ جُوں جُوں بیٹری فُل ہوتی جاتی ہے، ویسے ویسے ان کے پلزز مختصر اور دیر سے جاتے ہیں۔ اس طرح بیٹری کی لائف طویل رہتی ہے۔
۳: MPPT چارج کنٹرولر اور تین چار پانچ اسٹیج کنٹرولرز : یہ ٹیکنکلی سب سے ایڈوانس چارج کنٹرولرز ہیں۔ یہ ۹۴ سے ۹۸ فیصد تک ایفی شنٹ ہوتے ہیں۔یعنی یہ ۱۵ سے ۳۰ فیصد تک زیادہ پاور فراہم کرتے ہیں۔ اس بارے میں مختصر وضاحت اوپر کی جا چکی ہے۔ جبکہ تفصیلی وضاحت علیحدہ سے کی جائے گی۔

تین سے پانچ اسٹیج کنٹرولرز کو ٹیکنکلی ‘‘ایکولائزرز’’ کہا جاتا ہے۔ یہ بیٹری کے تمام سیلز یا بیٹری بینک کی تمام بیٹریز کی چارجنگ کو ایکولائز کرتا ہے۔ ان کا ایک اور اہم مقصد تیزابی بیٹریوں کے اندر بلبلے پیدا کرنا ہوتا ہے جس کی وجہ سے پلیٹس پر کیمیائے مادے کم جمع ہوتے ہیں اور بیٹری کی لائف بڑھ جاتی ہے۔

 MPPTچارج کنٹرولز استعمال کیجیے اور مکمل آوٹ پُٹ حاصل کیجیے۔
اس مسئلے کے تدارک کے لیے MPPTچارج کنٹرولز سب سے بہترین ہیں۔ یہ چارج کنٹرولرز ۱۵۰ وولٹ تک کی ان پُٹ لے سکتے ہیں۔ چناچہ آپ ایک سے زائد سولر پینلز کو اس کے ساتھ سیریز میں لگا سکتے ہیں۔ اس طرح آپ کی وائرنگ کا خرچہ اور لائن لاسز بھی کم ہو جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ یہ وولٹیج کو تو ریگولیٹ کر دیتا ہے لیکن تمام پینلز کے کرنٹ یعنی ایمپئرز کو جمع کر لیتا ہے۔ اس طرح آپ کے سسٹم کی آوٹ پُٹ مکمل استعمال میں رہتی ہے۔ مثلا آپ مندرجہ بالا مثال کے مطابق دو پینلز کو سیریز میں کر کے لگایا گیا ہے تو عام چارج کنٹرولرپر اس نے ۱۲ وولٹ اور ساڑھے سات ایمپئر دینے تھے۔ لیکن MPPTچارج کنٹرولر پر یہ آپ کو ۱۲ وولٹ پر ۲۹ ایمپئر دے گا۔ یعنی ۳۴۸ واٹ۔ یعنی آْپ کے سولر سسٹم کی مکمل افادیت آپ کے پاس ہو گی۔
 بشکریہ بدروانکل

محمد اسلم اوڈراجپوت
m aslam oad

........

0 تبصرے:

ایک تبصرہ شائع کریں

اسلام علیکم اگر آپ بھی شمسی توانائی کے بارے معلومات رکھتے ہیں تو لازمی شئیر کریں

اردو میں تبصرہ پوسٹ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کر دیں۔


 
کاپی‌رائٹ © شمسی توانائی بلاگ جملہ حقوق محفوظ